اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
490. باب تحريم تلقى الجلب
باب: آگے بڑھ کر تاجروں سے ملنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 972
972 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُحَفَّلَةً فَرَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا؛ وَنَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُلَقَّى الْبُيُوعُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: ”جو شخص مصراۃ بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو (اصل مالک کو) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قافلہ والوں سے (جو مال بیچنے کو لائیں) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 64 باب النهي للبائع أن لا يحفِّل الإبل والبقر والغنم وكل محفَّلة»
وضاحت: یہ مصرہ کی معنی میں ہے یعنی وہ بکری یا گائے یا اونٹنی جس کا مالک کئی دن نہ دوہے حتی کہ اس کا دودھ تھنوں میں جمع ہو جاتا ہے جب خریدنے والا دوہتا ہے تو اسے زیادہ دودھ والی خیال کرتے ہوئے قیمت زیادہ لگاتا ہے لیکن کچھ دنوں کے بعد پتا چلتا ہے کہ یہ تو دھوکا ہوا ہے چونکہ اس کا دودھ جمع کیا ہوتا ہے اس لیے اسے محفلہ کہتے ہیں۔(مرتبؒ)
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 972 in Urdu