المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
لشکر کے دستوں کی اصل لشکر کی طرف واپسی کا بیان
حدیث نمبر: 1073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثني هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، لا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون (دیت میں) برابر ہیں، ان میں سے معمولی آدمی بھی امان دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی قریبی رہائشی کی موجودگی میں پناہ دے سکتا ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، جن کی سواریاں زور آور ہوں وہ ان کے ساتھ رہیں جن کی سواریاں ضعیف ہیں اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی ذمی کو اس کی مدت معاہدہ کے دوران قتل کیا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 2/180-191، 192، 215، مسند الطيالسي: 2372، سنن أبي داؤد: 2751، سنن ابن ماجه: 2685، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے، ہشیم بن بشیر کی متابعت موجود ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي