المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
تیمم کا بیان
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً، فَقَالَ لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ ثُمَّ تَمَسَّحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ" ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ، وَقَالَ الْحَكَمُ: وَحدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ حَدِيثِ ذَرٍّ، قَالَ: وَثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمن بن ابزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا: میں جنبی ہوں، پانی نہیں ملا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز ہی نہ پڑھیے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المومنین یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک قافلہ میں (سفر کر رہے) تھے؟ ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا، آپ نے نماز نہ پڑھی، مگر میں نے (جانوروں کی طرح) زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: آپ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، پھر پھونک مار کر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مل لیتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عمار! اللہ سے ڈریے! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر آپ چاہتے ہیں، تو میں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا۔ حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ نے مجھے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے، نیز حکم والی سند میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنی بیان کردہ روایت کے خود ذمہ دار ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 125]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 339، صحيح مسلم: 112/368»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
الرواة الحديث:
سلمة بن كهيل الحضرمي ← ذر بن عبد الله المرهبي