المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. مواقيت الصلاة
نماز کے اوقات کا بیان
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَزِيعٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ: أَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ الأَزْرَقَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ، فَأَمَرَ بِلالا حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ أَنْ يُبْرِدَ بِالظُّهْرِ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ يَعْنِي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقْتُ صَلاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" .
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نمازوں کے اوقات پوچھنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھیں۔ چنانچہ جب سورج ڈھل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، پھر آپ کے حکم پر انہوں نے عصر کی اقامت کہی جب کہ سورج ابھی اونچا، سفید اور صاف تھا، پھر جب سورج ڈوب گیا تو آپ کے کہنے پر انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق غائب ہو گئی تو آپ کے کہنے پر انہوں نے عشا کی اقامت کہی، پھر جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ کے حکم پر انہوں نے فجر کی اقامت کہی، پھر جب دوسرا دن ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو نماز ظہر مؤخر کرنے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے خوب دیر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہوں نے عصر کی اقامت کہی جب کہ سورج ابھی اونچا تھا، لیکن پہلے دن سے کافی مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہوں نے مغرب کی اقامت شفق غروب ہونے سے پہلے کہی، پھر آپ کیا یہ ہم کے حکم پر انہوں نے عشا کی اقامت تہائی رات گزرنے کے بعد کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہوں نے فجر کی اقامت روشنی پھیلنے پر کہی، پھر فرمایا: نمازوں کے اوقات پوچھنے والا شخص کہاں ہے؟ وہ آدمی آپ کے پاس اٹھ کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کی نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے، جو آپ نے دیکھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 613»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب | صحابي | |
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي | ثقة | |
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث علقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← علقمة بن مرثد الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥إسحاق بن يوسف الأزرق، أبو محمد إسحاق بن يوسف الأزرق ← سفيان الثوري | ثقة مأمون |
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 151 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي