المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نمازِ استسقاء (بارش کی دعا کی نماز) کا بیان
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ ، قَالَ: ثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ فِي اسْتِسْقَاءٍ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ، خَرَجَ مُتَضَرِّعًا مُتَبَذِّلا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي الْعِيدَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے، چنانچہ آپ نے ایسا خطبہ نہیں پڑھا، جیسے یہ تمہارا خطبہ ہے، آپ گڑ گڑاتے ہوئے سادہ کپڑوں میں نکلے اور نماز عید کی طرح دو رکعتیں ادا کیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 1/269، سنن أبي داود: 1165، سنن النسائي: 1506، 1508، 1521، سنن الترمذي: 558، سنن ابن ماجه: 1266، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (2524)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1405) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2862) نے صحیح کہا ہے۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، نیز ان کے متابع بھی ہیں، ہشام بن اسحاق راوی ”حسن الحدیث“ ہے، ائمہ محدثین نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی توثیق ثابت کر دی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
إسحاق بن عبد الله العامري ← عبد الله بن العباس القرشي