🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت اختصار (تخفیف) کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ تَأَخَّرَ فَصَلَّى ثُمَّ خَرَجَ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالُوا: يَا فُلانُ نَافَقْتَ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنِّي سَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَكَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلاةَ الْبَارِحَةَ، فَجَاءَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ وَعُمَّالُ أَيْدِينَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا" ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ،" اقْرَأْ بِسُورَةِ سَبَّحَ وَ هَلْ أَتَاكَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَنَحْوِهَا".
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر واپس آکر ہمیں امامت کراتے تھے۔ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تاخیر کر دی، چنانچہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آکر سورة البقرہ شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر ایک آدمی جماعت سے ہٹ گیا اور اپنی نماز پڑھ کر چلا گیا۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے، تو اسے کہنے لگے: اے فلاں! تو منافق ہو گیا ہے۔ اس نے کہا: میں منافق تو نہیں ہوا، البتہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بتاؤں گا۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر واپس آکر ہمیں امامت کرواتے ہیں۔ گزشتہ رات آپ نے نماز میں تاخیر کردی، تو انہوں نے آکر سورة البقرہ کی تلاوت شروع کر دی۔ میں نے جب یہ دیکھا، تو الگ نماز پڑھ لی، کیونکہ ہم اونٹوں کے ذریعے آبیاری کرتے ہیں اور ہاتھوں سے محنت مزدوری کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (معاذ سے) فرمایا: کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالو گے؟ فلاں فلاں سورت پڑھا لیا کریں۔ ابو الزبیر کی روایت میں ہے: سورة الاعلیٰ، سورة الغاشیہ اور سورة اللیل وغیرہ پڑھ لیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 701، صحيح مسلم: 465»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن عبد الله المقرئ، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الله المقرئ ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 327 in Urdu