المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
کتاب الزکوٰۃ کا آغاز
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى: إِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الزكاة/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1401، صحيح مسلم: 56»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 334 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← جرير بن عبد الله البجلي