المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا" .
ابو ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک میت کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: ”اے اللہ! ہمارے زندوں اور فوت شدگان کو بخش دے، حاضرین اور غائبین، چھوٹوں اور بڑوں، مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد: مسند الإمام أحمد: 170/4، سنن النسائي: 1988، سنن الترمذي: 1024، ابوابراہیم اشہلی مدنی ”مجہول“ ہے۔ اس حدیث کا ایک بسند حسن شاہد سنن ابی داؤد (3201) وغیرہ میں آتا ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (3070) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (358/1) نے بخاری رحمہ اللہ اور مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح له شواهد
الرواة الحديث:
أبو إبراهيم الأشهلي ← والد أبي إبراهيم الأشهلي