المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: أنا عَبْثَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، فَذَكَرَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ، فَقَالَ: وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ، أَنْ يَقُولَ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلاثَ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ: اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102 وَ اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز اور ضرورت کے لیے تشہد سکھایا۔ چنانچہ انہوں نے تشہدِ نماز اور تشہدِ حاجت دونوں بیان کیے اور فرمایا: تشہدِ حاجت یوں پڑھنا چاہیے: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمَنْ يَهْدِهِ اللہُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں، اس سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفوس کے شرور سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پھر تین آیات کی تلاوت کرے: ﴿اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ (آل عمران: 102) ﴿وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ (النساء: 1) ﴿اتَّقُوا اللہَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ (الأحزاب: 70) (اللہ تعالیٰ سے ویسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت اسلام پر ہو۔ اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور رشتہ داروں کا خیال رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور درست بات کہو)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 679]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيفٌ: مسند الإمام أحمد: 393/1، سنن أبي داود: 2118، سنن الترمذي: 1105، سنن النسائي: 1165، سنن ابن ماجہ: 1892، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4143) نے صحیح کہا ہے۔ ابو اسحاق سبیعی مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی، جہاں ان سے شعبہ بیان کرتے ہیں، وہاں تدلیس کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے لیکن وہاں انقطاع کی وجہ سے سند معلول ہے، ابو عبیدہ نے اپنے باپ سید نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: فَإِنَّهُ عِنْدَ الْأَكْثَرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . (موافقة الخبر الخبر:364/1) نیز فرماتے ہیں: وَهُوَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ عِنْدَ الجُمْهُورِ (النكت على کتاب ابن الصلاح: 398/1)، مزید فرماتے ہیں: وَالرَّاجِحُ أَنَّهُ لَا يَصِحُ سَمَاعُهُ مِنْ أَبِيهِ (تقريب التهذيب: 8231) السنن الكبرى للبيهقي (146/7) وغیرہ میں اس کا ایک ”ضعیف“ شاہد بھی ہے، جو حریث بن ابی مطر فزاری "ضعیف" کی وجہ سے ضعیف ہے، اسی طرح دوسرا شاہد قتادہ مدلس کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيفٌ
الرواة الحديث:
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود