الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
ذبیحوں (ذبح کیے گئے جانوروں) کا بیان
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا لَهُمْ بِسَلْعٍ، فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ أَنْ تَمُوتَ، فَأَخَذَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، وَأَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت سلع (پہاڑ) پر سیدنا کعب بن مالک کی بکریاں چرایا کرتی تھی، اسے ایک بکری کے مرنے کا خطرہ لاحق ہوا، تو اس نے ایک پتھر لیا اور اس سے بکری کو ذبح کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس (بکری) کو کھالیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 2/76-80، سنن الدارمي: 1971، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 2992۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي