🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب إمامة جبرائيل
باب: حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1024 ترقیم الرسالہ : -- 1038
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، قَالَ: وَصَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الأَوَّلَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟ الْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ" .
ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تو انہوں نے صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جب صبح صادق ہو چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج ڈھل چکا ہے یا ابھی نہیں ڈھلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں زیادہ علم ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب سورج ابھی بلند تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب آدمی یہ سوچتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے یا ابھی نہیں نکلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں زیادہ پتا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن میں عصر کی نماز ادا کی تھی جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج تو سرخ ہو چکا ہے، یعنی دھوپ ماند پڑ گئی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر عشاء کی نماز آپ نے ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد ادا کی پھر آپ نے دریافت کیا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان (نمازوں کا مخصوص) وقت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1038]
ترقیم العلمیہ: 1024
تخریج الحدیث: «حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) _x000D_»

الحكم على الحديث: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بكر بن أبي موسى الأشعري، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بدر بن عثمان القرشي
Newبدر بن عثمان القرشي ← أبو بكر بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← بدر بن عثمان القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن إسماعيل الحساني، أبو عبد الله
Newمحمد بن إسماعيل الحساني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥محمد بن مخلد الدوري، أبو عبد الله
Newمحمد بن مخلد الدوري ← محمد بن إسماعيل الحساني
ثقة حافظ