الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
16. باب الاجتهاد فى القبلة وجواز التحري فى ذلك
باب: قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
ترقیم العلمیہ : 1050 ترقیم الرسالہ : -- 1065
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا أَشْعَثُ السَّمَّانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ كَيْفَ الْقِبْلَةُ، فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فنزلت: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115" .
عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ایک سفر کے دوران انتہائی تاریک رات میں نماز ادا کی۔ ہمیں قبلہ کی سمت کا پتہ نہ چل سکا۔ ہم میں سے ہر شخص نے جس طرف اس کا رخ تھا، اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لی۔ اگلے دن ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”تم جہاں بھی ہو، وہاں اللہ کی ذات موجود ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1065]
ترقیم العلمیہ: 1050
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 345، 2957، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1020، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2278، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1065، 1066، 1067، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 1241، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 316، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3812، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 460»
«قال ابن کثیر: هذه الأسانيد فيها ضعف ولعله يشد بعضها بعضا، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (4 / 68)»
«قال ابن کثیر: هذه الأسانيد فيها ضعف ولعله يشد بعضها بعضا، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (4 / 68)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي