سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
17. باب فى ذكر الأمر بالأذان والإمامة وأحقهما
باب: اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا؟
ترقیم العلمیہ : 1055 ترقیم الرسالہ : -- 1070
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، نا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَحْوَلُ الْهِلالِيُّ ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ان میں سے کوئی ایک ان کی امامت کروائے، (یعنی انہیں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے) اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہو گا جو قراءت اچھے طریقے سے کر سکتا ہو (یا زیادہ آیات کا حافظ ہو)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
ترقیم العلمیہ: 1055
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 672، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1508، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2132، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 781، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2608، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1289، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1070، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11360»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري