علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
12. باب الدباغ
باب: چمڑے کو پاک کرنا
ترقیم العلمیہ : 115 ترقیم الرسالہ : -- 119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَابِدُ ، نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَوْ زَيْنَبَ ، أَوْ غَيْرِهِمَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مَيْمُونَةَ مَاتَتْ شَاةٌ لَهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟"، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَسْتَمْتِعُ بِهَا وَهِيَ مَيْتَةٌ، فَقَالَ:" طَهُورُ الأُدْمِ دِبَاغُهُ" . وَقَالَ غَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ.
ہزیل بن شرحبیل، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یا ان دونوں کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور زوجہ محترمہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی بکری مر گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟“ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اسے کیسے استعمال کر سکتے ہیں، یہ تو مردار ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کے ذریعے چمڑہ پاک ہو جاتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ سے منقول ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 119]
ترقیم العلمیہ: 115
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 82، 11322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 116، 117، 119، 125، 4707، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 25، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 538، قال الدارقطني: يوسف بن أبى السفر متروك، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: 160/3»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 119 in Urdu
هزيل بن شرحبيل الأودي ← اسم مبهم