سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
37. باب وجوب قراءة أم الكتاب فى الصلاة وخلف الإمام
باب: نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
ترقیم العلمیہ : 1202 ترقیم الرسالہ : -- 1217
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ نَافِعٌ : أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ، وَكَانَ أَبُو نُعَيْمٍ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ: قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلا أَدْرِي أَسُنَّةٌ هِيَ أَمْ سَهْوٌ، كَانَتْ مِنْكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟"، فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَلا تَفْعَلُوا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ فَلا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ" . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں تاخیر سے پہنچے۔ ابونعیم نامی موذن نے نماز کے لیے اقامت کہہ دی۔ ابونعیم وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی، ابونعیم لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اسی دوران سیدنا عبادہ بن صامت آگئے۔ میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کی اقتداء میں صف قائم کر لی۔ ابونعیم نے بلند آواز میں قراءت کرنا شروع کی تو سیدنا عبادہ بھی سورہ فاتحہ پڑھنے لگے۔ (راوی کہتے ہیں) جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ نے ایک ایسا عمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ کیا یہ سنت ہے؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کر لیا ہے؟“ سیدنا عبادہ نے دریافت کیا: ”وہ کون سا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”آپ کو سورہ فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔“ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قراءت کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا تو کیا تم بھی قراءت کر رہے تھے؟‘ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا: ’ہم نے ایسا کیا ہے۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’تم ایسا نہ کرو۔ میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم قرآن کی قراءت نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1217]
ترقیم العلمیہ: 1202
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
نافع بن محمود الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري