سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
باب: نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے"۔
ترقیم العلمیہ : 1251 ترقیم الرسالہ : -- 1266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ الْوَزَّانُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ خَافَتَ أَوْ قَرَأَ" . قَالَ أَبُو مُوسَى: قُلْتُ: لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا فِي الْقِرَاءَةِ؟ فَقَالَ: هَكَذَا مُنْكَرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے لیے امام کا قراءت کر لینا کافی ہے خواہ وہ پست آواز میں قراءت کرے یا بلند آواز میں کرے۔“ ابوموسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سیدنا عبداللہ بن عباس سے منقول قراءت کے بارے میں اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ روایت منکر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1266]
ترقیم العلمیہ: 1251
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1252، 1266، وقال الدارقطني: هذا منكر، سنن الدارقطني:، 1266»
الرواة الحديث:
عون بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي