سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
42. باب قدر القراءة فى الظهر والعصر والصبح
باب: ظہر، عصر، فجر میں قرات کی مقدار
ترقیم العلمیہ : 1262 ترقیم الرسالہ : -- 1278
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا هُشَيْمٌ ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" . هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگایا، تو ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ظہر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اتنا طویل ہوتا ہے جتنی دیر میں تیس آیات تلاوت کی جا سکتی ہیں، یعنی جتنی سورة السجدة بڑی ہے۔ یہ اندازہ پہلی دو رکعتوں کے بارے میں تھا، جبکہ آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف ہوتا تھا۔ اسی طرح ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا، تو وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں جتنا ہوتا تھا، اور ہم نے عصر کی آخری دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا، تو وہ اس کے نصف ہوتا تھا۔ یہ روایت ثابت اور صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1278]
ترقیم العلمیہ: 1262
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 452،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 509، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1825، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 474، 475، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 349، 350، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 804، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1325، 1326، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 828، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1278، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11142»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
بكر بن قيس الناجي ← أبو سعيد الخدري