سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
71. باب قضاء الصلاة بعد وقتها ومن دخل فى صلاة فخرج وقتها قبل تمامها
باب: نماز کا وقت گزرجانے کے بعد قضاء نماز ادا کرنا جو شخص نماز پڑھناشروع کردے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے اس کا وقت گزر جائے (اس کا حکم)۔
ترقیم العلمیہ : 1424 ترقیم الرسالہ : -- 1441
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، أَوْ قَالَ: فِي سَرِيَّةٍ. فَلَمَّا كَانَ آخِرُ السَّحَرِ عَرَّسْنَا، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثِبُ فَزِعًا دَهِشًا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، فَقُلْنَا: يَا نَبِيُّ اللَّهِ، أَلا نَقْضِيهُمَا لِوَقْتِهِمَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ لَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) سریہ میں شرکت کے لیے ایک سفر میں شریک تھے، جب رات کا آخری حصہ ہوا، تو ہم نے پڑاؤ کیا (اور سو گئے)، ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا، ہم لوگ خوف زدہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو انہوں نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم وہاں سے روانہ ہو جائیں، پھر ہم نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہو گیا، تو لوگوں نے قضائے حاجت کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اذان دیں، پھر ہم نے دو رکعت ادا کیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے اقامت کہی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم اسے کل اس کے وقت میں قضاء نہ کریں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو سود سے منع کرے گا، اور خود اسے تم سے قبول کرے گا؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1441]
ترقیم العلمیہ: 1424
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1437، 1438، 1441، 1445، 1446، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
الحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي