سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
71. باب قضاء الصلاة بعد وقتها ومن دخل فى صلاة فخرج وقتها قبل تمامها
باب: نماز کا وقت گزرجانے کے بعد قضاء نماز ادا کرنا جو شخص نماز پڑھناشروع کردے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے اس کا وقت گزر جائے (اس کا حکم)۔
ترقیم العلمیہ : 1427 ترقیم الرسالہ : -- 1444
حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ ، ثنا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمُهُمْ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ" . قَالَ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي: يَا فَتًى، احْفَظْهَا كُنْتَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کے نماز کے وقت سوئے رہ جانے کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہے، تفریط بیداری میں ہے، جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا نماز کے وقت سوئے رہ جائے، تو جیسے ہی اسے یاد آئے، اس وقت اسے ادا کر لے یا اگلے دن اسی نماز کے وقت میں (قضاء کے طور پر) اسے ادا کرے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، تو مجھ سے فرمایا: اے نوجوان! تم جو حدیث بیان کر رہے ہو، اسے یاد رکھنا، کیونکہ میں نے بھی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1444]
ترقیم العلمیہ: 1427
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 595، 7471، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 681، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 409، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1460، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 614، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 698، 3434، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1442، 1443، 1444، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22982»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن رباح الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي