سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب: ليس فى الكسر شيء
باب (سونے یا چاندی کے) ٹکڑے میں کوئی چیزلازم نہیں ہوگی
ترقیم العلمیہ : 1881 ترقیم الرسالہ : -- 1904
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، ثنا أَبُو بَدْرٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، ثنا الْحَكَمُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قِيلَ لَهُ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قَالَ:" أُمِرْتُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً"، قِيلَ لَهُ: أُمِرْتَ فِي الأَوْقَاصِ بِشَيْءٍ؟ قَالَ:" لا، وَسَأَسْأَلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" لا وَهُوَ مَا بَيْنَ السِّنِينَ" ، يَعْنِي لا تَأْخُذْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا تبیعہ اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کروں۔“ ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کو اوقاص کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں! میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں گا۔“ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! (یعنی اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس سے مراد وہ جانور ہے، جو دو برسوں کے درمیان میں ہو اور الفاظ سے مراد یہ ہے کہ اس میں سے کوئی چیز وصول نہیں کی جائے گی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 1904]
ترقیم العلمیہ: 1881
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 891، وابن الجارود فى "المنتقى"، 378، 1183، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2268،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4886، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1453، 1462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1576، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 623، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1663، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1803، 1818، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1905، 1916، 1928، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22433»
«قال ابن الملقن: هذا مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 516)»
«قال ابن الملقن: هذا مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 516)»
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1904 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي