سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
12. باب وجوب الزكاة فى مال الصبي واليتيم
باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
ترقیم العلمیہ : 1950 ترقیم الرسالہ : -- 1975
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَشْعَثُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَقْطَعَ أَبَا رَافِعٍ أَرْضًا، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو رَافِعٍ بَاعَهَا عُمَرُ بِثَمَانِينَ أَلْفًا، فَدَفَعَهَا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَكَانَ يُزَكِّيهَا، فَلَمَّا قَبَضَهَا وَلَدُ أَبِي رَافِعٍ عَدُّوا مَالَهُمْ فَوَجَدُوهَا نَاقِصَةً، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهَا؟ قَالُوا: لا، قَالَ: فَحَسَبُوا زَكَاتَهَا فَوَجَدُوهَا سَوَاءً، فَقَالَ عَلِيُّ: كُنْتُمْ تَرَوْنَ عِنْدِي مَالٌ لا أُؤَدِّي زَكَاتَهُ" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین گیر کے طور پر عطا کی، جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو ٨٠ ہزار کے عوض میں فروخت کر دیا اور وہ مال سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی زکوٰۃ ادا کرتے رہے، جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اولاد نے اس مال کو اپنے قبضے میں لیا، تو انہوں نے اپنے مال کی گنتی کی، تو اسے کم پایا، وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کی زکوٰۃ کا حساب لگایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ راوی بیان کرتے ہیں: ان لوگوں نے اس کی زکوٰۃ کا حساب لگایا، تو اسے پورا پایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کوئی مال موجود ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 1975]
ترقیم العلمیہ: 1950
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1975،»
الرواة الحديث:
صلت المكي ← عبيد الله بن أسلم المدني