سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. باب الاعتكاف
باب اعتکاف کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2329 ترقیم الرسالہ : -- 2363
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ التُّبَّعِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً، وَلا يُبَاشِرُهَا، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ، وَيَأْمُرُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ" . يُقَالُ: إِنَّ قَوْلَهُ: وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ، لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ.
عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی ان دنوں میں اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے: ”صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکلے گا، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، مریض کی عیادت کے لیے نہیں جائے گا، وہ عورت کو چھوئے گا نہیں اور اس کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا، اور اعتکاف صرف اس مسجد میں ہو سکتا ہے، جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور اعتکاف کرنے والے شخص کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ روزہ بھی رکھے۔“ ایک قول کے مطابق اس روایت کے یہ الفاظ: ”اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے“ اس کے بعد سے لے کر روایت کے آخر تک کا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے، بلکہ (اس روایت کے راوی) زہری کا کلام ہے، جنہوں نے اسے حدیث میں ہی درج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہشام بن سلیمان نامی راوی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2363]
ترقیم العلمیہ: 2329
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2026، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1172، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2223، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3665،والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3321، 3322،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2462، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 790، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8658، 8664، 8685، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2362، 2363، 2364، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7899»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق