سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. ما جاء فى الإحرام
باب: حالت احرام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2406 ترقیم الرسالہ : -- 2439
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ حُذَيْفَةَ شَكَّ ابْنُ عَوْنٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ: نَتَحَدَّثُ بِحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَكَانَ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ، قَالَ: قُلْتُ لَوْ أَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا أَسْمَعُهُ مِنْكَ، قَالَ: فَقَالَ: لَمَّا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْتُ حَتَّى كُنْتُ بِأَقْصَى أَرْضِ أَهْلِ الإِسْلامِ، ثُمَّ قُلْتُ: لآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلأَسْمَعَنَّ مِنْهُ، فَلَمَّا جِئْتُ اسْتَشْرَفَ لِي النَّاسُ، فَذَكَرَ لِي الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:" أَتَيْتَ الْحِيرَةَ؟"، قُلْتُ: لا، وَقَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا، قَالَ:" فَتُوشِكُ الظَّعِينَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ". قَالَ: فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ مُخْتَصَرٌ.
محمد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے، وہ کوفہ کی ایک کنارے والی آبادی میں رہا کرتے تھے، میں نے یہ سوچا کہ اگر میں ان کے پاس جاؤں اور اگر میں خود ان سے یہ حدیث سن لوں، تو یہ مناسب ہو گا، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: آپ کے حوالے سے ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے سن لوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عدی نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، تو میں فرار ہو کر اسلامی سلطنت کے دور دراز کے حصے میں چلا گیا، پھر میں نے یہ سوچا کہ مجھے ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے، اگر وہ سچے ہوں گے، تو میں ان کی بات مان لوں گا، جب میں (آپ کی خدمت میں) آیا، تو لوگ میرے لیے کھڑے ہوئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: (اس کے بعد انہوں نے مجھے پوری حدیث سنائی، جس میں یہ بیان ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم حیرہ گئے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”نہیں! لیکن مجھے اس کی جگہ کا پتہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا، جب کوئی عورت وہاں سے کسی کی پناہ میں آئے بغیر نکلے گی، یہاں تک کہ (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کرے گی۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا، جو حیرہ سے روانہ ہوئی اور اس نے (مکہ پہنچ کر) خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2439]
ترقیم العلمیہ: 2406
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، 6539، 6540، 6563، 7443، 7512، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1016، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2428، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 473، 666، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8677، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2554، 2555، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2344، 2345، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1698، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 185، 1843،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18535»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
ترقیم العلمیہ : 2407 ترقیم الرسالہ : -- 2439M
نا أحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ، قَالا: نا إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا سلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، نا حمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ حُذَيْفَةَ : قَالَ رَجُلٌ: كُنْتُ أَسْأَلُ النَّاسَ عَنْ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِي لا أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" يَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ لِي:" فَإِنَّ الظَّعِينَةَ سَتَرْحَلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جِوَارٍ"، مُخْتَصَرٌ.
عبیدہ بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے یہ بات بیان کی: میں لوگوں سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں دریافت کر رہا تھا، اور وہ میرے پہلو میں موجود تھے، لیکن میں نے ان سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا، پھر میں ان کے پاس آیا، تو انہوں نے بتایا: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے عدی بن حاتم! اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، جس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ایک عورت عنقریب حیرہ سے سفر پر روانہ ہو گی، یہاں تک کہ کسی کی پناہ کے بغیر (مکہ پہنچ کر) بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2439M]
ترقیم العلمیہ: 2407
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، 6539، 6540، 6563، 7443، 7512، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1016، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2428، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 473، 666، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8677، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2554، 2555، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2344، 2345، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1698، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 185، 1843،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2437، 2438، 2439، 2463، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18535»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهب | صحابي | |
👤←👥أبو عبيدة بن حذيفة العبسي، أبو عبيدة أبو عبيدة بن حذيفة العبسي ← عدي بن حاتم الطائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو عبيدة بن حذيفة العبسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ | |
👤←👥إسماعيل بن إسحاق القاضي، أبو إسحاق إسماعيل بن إسحاق القاضي ← سليمان بن حرب الواشحي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن سلمان النجاد، أبو بكر أحمد بن سلمان النجاد ← إسماعيل بن إسحاق القاضي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أحمد بن محمد المتوثي، أبو سهل أحمد بن محمد المتوثي ← أحمد بن سلمان النجاد | ثقة |
أبو عبيدة بن حذيفة العبسي ← عدي بن حاتم الطائي