سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
16. باب الحج عن الغير
باب: دوسروں کی طرف سے حج کرنے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2621 ترقیم الرسالہ : -- 2658
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةَ؟"، قَالَ: أَخٌ لِي أَوْ قَرَابَةٌ لِي، قَالَ:" هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْكَ، ثُمَّ لَبِّ عَنْ شُبْرُمَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میرا بھائی ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے اپنی رشتہ داری کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم حج کر چکے ہو؟“ تو اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے اپنی طرف سے کرو اور بعد میں شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2658]
ترقیم العلمیہ: 2621
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 548، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 3039، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3988،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1811، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2903، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2642، 2643، 2644، 2645، 2646، 2647، 2648، 2649، 2650، 2651، 2652، 2653، 2654، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2663، 2664، 2665»
«قال ابن ملقن: إسناده صحيح على شرط مسلم، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 45)»
«قال ابن ملقن: إسناده صحيح على شرط مسلم، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 45)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي