سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2915 ترقیم الرسالہ : -- 2951
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا صَالِحُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرَاعًا وَسِلاحًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟، قَالَ: عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور اسلحہ عارضی طور پر لیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر ہے، جسے واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عارضی طور پر لیا ہے، جسے واپس کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2951]
ترقیم العلمیہ: 2915
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2314، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11593، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2951»
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي