سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2919 ترقیم الرسالہ : -- 2955
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرَاعًا، فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ؟، قَالَ: بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ؟، قَالَ: فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْمَنَهَا، فَقَالَ: أَنَا الْيَوْمَ فِي الإِسْلامِ أَرْغَبُ" .
امیہ بن صفوان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زرہیں ادھار مانگیں، تو انہوں نے عرض کی: ”اے محمد! کیا غصب کر رہے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان بھی ادا کیا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان میں سے کچھ زرہیں خراب ہو گئیں، تو نبی نے انہیں یہ پیش کش کی کہ وہ ان کا تاوان لیں، تو انہوں نے عرض کی کہ اب میں اسلام کی طرف راغب ہو چکا ہوں اور مجھے اس میں زیادہ دل چسپی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2955]
ترقیم العلمیہ: 2919
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 11، 12، 13، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2313، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2955، 2956، 2957، 2958، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15535»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
«قال ابن حجر: قد اختلف على عبد العزيز بن رفيع في سنده . الإصابة في تمييز الصحابة: (8 / 56)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2955 in Urdu
أمية بن صفوان الأكبر ← صفوان بن أمية القرشي