سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2931 ترقیم الرسالہ : -- 2963
ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنِي جَدِّي ، نَا أَبِي ، نَا وَرْقَاءُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَرَادَتْ أَبَاهُ بَشِيرًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَ النُّعْمَانَ ابْنَهُ حَائِطًا مِنْ نَخْلٍ فَفَعَلَ، فَقَالَ: مَنْ أُشْهِدُ لَكِ؟، فَقَالَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَعْطَيْتَهُمْ كَمَا أَعْطَيْتَهُ؟، قَالَ: لا، قَالَ: لَيْسَ مِثْلِي يَشْهَدُ عَلَى هَذَا، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُحِبُّ أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلادِكُمْ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ أَنْفُسِكُمْ" .
سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان کے والد سیدنا بشیر سے کہا کہ وہ اپنے صاحب زادے نعمان کو کھجوروں کا ایک باغ دے دیں، تو سیدنا بشیر نے ایسا کر لیا، پھر انہوں نے دریافت کیا کہ میں اس بارے میں کسے گواہ بناؤں؟ تو اس خاتون نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، تو سیدنا نعمان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے جس طرح سے اسے دیا ہے، اسی طرح باقی سب کو بھی دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی نہیں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے جیسا شخص اس طرح کی چیز کا گواہ نہیں بن سکتا، اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے بارے میں انصاف سے کام لو، جس طرح وہ اس بات کو بھی پسند کرتا ہے کہ تم لوگ آپس میں انصاف سے کام لو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2963]
ترقیم العلمیہ: 2931
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1623، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1372، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5097،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3676، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1367، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2375، 2376، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/5، 2962، 2963، 2964، 2965، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18645»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← النعمان بن بشير الأنصاري