سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب الخراج بالضمان
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
ترقیم العلمیہ : 2972 ترقیم الرسالہ : -- 3005
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رُخْصَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ شُرَكَائِهِ فَبَاعُوهُ وَرَجُلٌ مِنَ الشُّرَكَاءِ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، فَاخْتَصَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ وَيَتَبَايَعُوهُ الْيَوْمَ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخَرَاجُ، وَوُجِدَ الْخَرَاجُ فِيمَا مَضَى مِنَ السَّنَتَيْنِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَبِيعَ فِيهِ غُلامَانِ لَهُ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ"، فَدَخَلَ عُرْوَةُ عَلَى هِشَامٍ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ فَرَدَّ بَيْعَ الْغُلامَيْنِ، وَتَرَكَ الْخَرَاجَ.
سیدنا مخلد بن خفاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام کچھ لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا، ان لوگوں نے اسے فروخت کر دیا، شراکت داروں میں سے ایک شخص غیر موجود تھا، جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، وہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس لے آئے، تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ سودا کالعدم قرار دیا جائے گا اور وہ لوگ اس دن کے ریٹ کے حساب سے سودا کریں گے اور اسے خراج وصول کر لیا جائے گا، پھر جو دو سال گزر چکے تھے، ان کا خراج ایک ہزار درہم بنا، تو اس غلام کے عوض دو غلام فروخت کیے گئے۔ میں عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ نے مجھے یہ حدیث سنائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ خراج زمان کے حساب سے ہو گا، پھر عروہ ہشام کے پاس تشریف لے آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا، اس نے ان دونوں غلاموں کا سودا کالعدم کر دیا اور خراج ترک کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3005]
ترقیم العلمیہ: 2972
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 682، 683، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4927، 4928، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2187، 2188، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4495، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6037، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3508، 3509، 3510، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1285، 1286، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2242، 2243، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24861»
«قال ابن حزم: لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 51)»
«قال ابن حزم: لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 51)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق