سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3147 ترقیم الرسالہ : -- 3186
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، عَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ مُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ فَتَفَرَّقُوا لِحَاجَتِهِمْ، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلا، فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا قَسَامَةً تَسْتَحِقُّونَ بِهِ قَاتِلَكُمْ؟، فَكَرِهُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ، نَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ غِبْنَا عَنْهُ؟، قَالَ: فَتَحْلِفُ الْيَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا فَيَبْرَءُونَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنْ مَالِ الصَّدَقَةِ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر گئے، وہاں یہ حضرات اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہیں سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول ملے، یہ حضرات واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم پچاس افراد قسامت کے طور پر قسم اٹھا کر اپنے قاتل (کو سزا) دے سکتے ہو۔“ تو ان حضرات کو یہ گوارا نہیں ہوا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم غیب کے بارے میں کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں، ہم ایک ایسے معاملے کے بارے میں قسم اٹھائیں، جس میں ہم موجود نہیں تھے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہم کفار کی قسموں کو قبول کر لیں؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوٰة کا مال آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اس مقتول) کی دیت ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3186]
ترقیم العلمیہ: 3147
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2678، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3186، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28386، 37594»
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي