سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3185 ترقیم الرسالہ : -- 3226
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أنا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا أَبُو السَّائِبِ ، نَا يَزِيدُ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا: " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ"، فَقَالَ: لا، قَالَ:" فَكَذَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ". وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ"، قَالَ: لا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَعَلْتَ كَذَا؟"، لا يُكَنِّي، قَالَ: نَعَمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے زنا کا اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تو نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھو لیا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسا ہی ہے (یعنی تم نے زنا ہی کیا ہے)؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ ابن سنان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو، تم نے ہاتھ لگایا ہو، یا دیکھا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے یہ یہ (یعنی زنا) کیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنایہ کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3226]
ترقیم العلمیہ: 3185
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6824، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1693، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8169، 8170، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4421، 4425، 4426، 4427، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1427،، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3225، 3226، 3227، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2161»
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي