سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3298 ترقیم الرسالہ : -- 3344
نَا نَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلافُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ الشُّرَّابَ كَانُوا يُضْرَبُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَبِالْعُصِيِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِي خِلافَةِ أَبِي بَكْرٍ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْلِدُهُمْ أَرْبَعِينَ حَتَّى تُوُفِّيَ، فَكَانَ عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَجَلَدَهُمْ أَرْبَعِينَ كَذَلِكَ، حَتَّى أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ وَقَدْ شَرِبَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ، فَقَالَ: لِمَ تَجْلِدُنِي؟ بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ كِتَابِ اللَّهِ تَجِدُ أَنْ لا أَجْلِدَكَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93، فَأَنَا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ، ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا سورة المائدة آية 93، وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة المائدة آية 93، شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، وَأُحُدًا، وَالْخَنْدَقَ، وَالْمَشَاهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلا تَرُدُّونَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّ هَؤُلاءِ الآيَاتِ أنزلت عُذْرًا لِلْمَاضِينَ وَحَجَّةً عَلَى الْمُنَافِقِينَ، لأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ سورة المائدة آية 90 الآيَةَ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَنْفَذَ الآيَةَ الأُخْرَى، فَإِنْ كَانَ مِنَ: الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سورة المائدة آية 93 الآيَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ نَهَاهُ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ، مَاذَا تَرَوْنَ؟ قَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذِيَ، وَإِذَا هَذِيَ افْتَرَى، وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ جَلْدَةً، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں شراب پینے والوں کو ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں کے ذریعے مارا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے زیادہ تعداد میں شراب پینے کے مقدمات پیش ہوئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو چالیس کوڑے لگوائے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے لگوائے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو لایا گیا جنہوں نے شراب پی تھی۔ انہیں کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا، تو وہ بولے: آپ مجھے کیسے کوڑے مار سکتے ہیں جب کہ آپ کے اور میرے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم موجود ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آپ کو اللہ کی کتاب کا حکم وہ کہاں سے ملا ہے کہ میں آپ کو کوڑے نہ ماروں؟ تو انہوں نے کہا: اللہ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان پر اس چیز کے حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا جو انہوں نے کھایا پیا۔“ (وہ صاحب بولے) میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ایمان لائے، انہوں نے نیک اعمال کیے، پرہیزگاری اختیار کی اور مومن ہوئے، پھر پرہیزگار ہوئے اور انہوں نے اچھائی کی (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر تمام غزوات میں شریک رہا ہوں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے ہو جو اس نے کہا ہے؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آیت گزرے ہوئے لوگوں کے عذر کے طور پر منافقین کے خلاف حجت کے طور پر نازل ہوئی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا۔“ سیدنا ابن عباس نے ان دونوں آیتوں کو مکمل پڑھا اور بولے: اگر یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، تو اللہ نے تو انہیں شراب پینے سے منع کیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے۔ (پھر دوسرے لوگوں سے دریافت کیا) آپ لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے، (میں اسے کیا سزا دوں)؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص شراب پیے وہ مدہوش ہو جاتا ہے، جب مدہوش ہو جاتا ہے تو ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو زنا کا جھوٹا الزام لگاتا ہے، اور زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جاتے ہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت ان صاحب کو اسی کوڑے لگائے گئے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3344]
ترقیم العلمیہ: 3298
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 310، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8224، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5269، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17622، 17623، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3344، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4441، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11550، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 9349»
الرواة الحديث:
ثور بن زيد الديلي ← عبد الله بن العباس القرشي