الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب أحكام النكاح
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3474 ترقیم الرسالہ : -- 3528
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَكِينَةَ بِنْتِ حَنْظَلَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَمْ تَنْقَضِ عِدَّتِي مِنْ مَهْلِكِ زَوْجِي، فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيٍّ وَمَوْضِعِي فِي الْعَرَبِ، قُلْتُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي، قَالَ: إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ لِقَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ عَلِيٍّ وَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ مُتَأَيِّمَةٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: " لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِيرَتُهُ وَمَوْضِعِي فِي قَوْمِي"، كَانَتْ تِلْكَ خُطْبَتَهُ .
عبدالرحمن بن سلیمان اپنی پھوپھی سکینہ بنت حنطلہ کا بیان نقل کرتے ہیں: امام محمد الباقر نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، اس وقت میرے شوہر کے انتقال کی عدت نہیں گزری تھی، انہوں نے فرمایا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میرے رشتے سے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میرے رشتے اور عربوں کے درمیان میری حیثیت سے واقف ہو (میں تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں)۔“ میں نے کہا: ”اے ابوجعفر، اللہ آپ کی مغفرت کرے، آپ سے استفادہ کیا جاتا ہے، اور آپ میری عدت کے دوران مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں؟“ تو امام محمد الباقر نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے رشتے کے بارے میں تمہیں بتایا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ (کو نکاح کا پیغام دینے کے لیے) ان کے پاس تشریف لے گئے تھے، وہ اس وقت سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (کے انتقال کے بعد بیوگی کی) عدت گزار رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”اے ام سلمہ! تم جانتی ہو، میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا برگزیدہ ہوں، میری قوم میں میری حیثیت جو ہے (تم اس سے واقف ہو)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح کے الفاظ یہ تھے (اور میں نے بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3528]
ترقیم العلمیہ: 3474
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14130، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3528»
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن الغسيل ← محمد الباقر