سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3890 ترقیم الرسالہ : -- 3956
نَا نَا ابْنُ صَاعِدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، قَالا: نَا وَكِيعٌ ، عَنْ دَاوُدَ الأَوْدِيِّ الزَّعَافِرِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: لَقِيَنِي الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ ، فَقَالَ:" يَا شَعْبِيُّ، اتَّقِ اللَّهَ وَارْجِعْ عَنْ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، فَإِنَّ عُمَرَ ، كَانَ يَجْعَلُ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ، فَقُلْتُ: لا أَرْجِعُ عَنْ شَيْءٍ حَدَّثَتْنِي بِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: اسود بن یزید کی مجھ سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شعبی! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کرنے سے باز آ جاؤ، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی عورت کو رہائش اور خرچ کا حق دیا ہے۔“ تو میں نے کہا: ”میں اس سے باز نہیں آؤں گا، کیونکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث مجھے سنائی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3956]
ترقیم العلمیہ: 3890
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3956، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
«قال ابن عبدالبر: ليس بقوي الإسناد، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (19 / 135)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عمر بن الخطاب العدوي