سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3894 ترقیم الرسالہ : -- 3960
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ، فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى، وَلا نَفَقَةً، فَأَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصَى فَحَصَبَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا، قَالَ عُمَرُ: لا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لا نَدْرِي حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ، لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 الآيَةَ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہمارے ساتھ شعبی بھی موجود تھے۔ شعبی نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا تھا۔ تو اسود نے مٹھی میں کنکریاں پکڑ کر شعبی کو مارتے ہوئے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم اس طرح کی روایتیں سنا رہے ہو، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا ہے: ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے حکم کو کسی عورت کے بیان کی وجہ سے ترک نہیں کریں گے، کیونکہ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس عورت کو (اصل بات) یاد ہے یا وہ بھول گئی ہے۔ ایسی (تین طلاق یافتہ) عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا، کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3960]
ترقیم العلمیہ: 3894
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية