سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3908 ترقیم الرسالہ : -- 3974
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ، وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرُ فَيُطَلَّقَ لِكُلِّ قُرُوءٍ، قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ، أَوْ أَمْسِكْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاثًا أَكَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟، قَالَ: لا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ، وَتَكُونُ مَعْصِيَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، پھر انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس خاتون کو بقیہ دو طلاقیں آگے آگے آنے والے طہروں کے دوران دیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن عمر! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس طرح (طلاق دینے کا) حکم تو نہیں دیا، تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے، سنت یہ ہے کہ تم پہلے اسے طہر آنے دو، پھر ہر طہر میں طلاق دے دینا۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی، تو میں نے اس خاتون سے رجوع کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے، اس وقت تم اسے طلاق دینا یا اپنے ساتھ رکھنا (یعنی طلاق نہ دینا)۔“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کا کیا فرمانا ہے، اگر میں اسے تین طلاقیں دے دوں، تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، (ایسی صورت میں) وہ تم سے بائنہ ہو جائے گی اور (طلاق دینے کا یہ طریقہ) گناہ ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3974]
ترقیم العلمیہ: 3908
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، 4264، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، 4587»
«قال الدارقطني: لم يعله إلا بعطاء الخراساني وقال إنه أتى في هذا الحديث ب
«قال الدارقطني: لم يعله إلا بعطاء الخراساني وقال إنه أتى في هذا الحديث ب
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الحسن البصري ← عبد الله بن عمر العدوي