سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. لا وصية لوارث
لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ
ترقیم العلمیہ : 4088 ترقیم الرسالہ : -- 4161
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ زِيَادُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ لِجَلِيسٍ لَهُ:" هَلْ تَدْرِي كَيْفَ قَضَى عُمَرُ فِي الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ؟، قَالَ: لا، قَالَ: فَإِنِّي لأَعْلَمُ خَلْقِ اللَّهِ كَيْفَ كَانَ قَضَى فِيهِمَا عُمَرُ جَعَلَ الْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الأُمِّ، وَالْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الأَبِ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: زیاد بن ابوسفیان نے اپنے ساتھی سے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی اور خالہ کے بارے میں کیا فیصلہ دیا تھا؟“ اس شخص نے جواب دیا: ”جی نہیں!“ تو زیاد نے کہا: ”میں اس بارے میں سب سے بہتر جانتا ہوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیا فیصلہ دیا تھا، انہوں نے خالہ کو ماں کی جگہ اور پھوپھی کو باپ کی جگہ قرار دیا تھا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4161]
ترقیم العلمیہ: 4088
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3022، 3023، 3092، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 153، 154، 167، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12348، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4161، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19112، 19113، 19114، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31761، 31762، 31768، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 7438، 7439، 7442، 7443»
الرواة الحديث:
زياد بن أبي سفيان الثقفي ← عمر بن الخطاب العدوي