سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أحكام الوصايا
وصیت کے احکام
ترقیم العلمیہ : 4214 ترقیم الرسالہ : -- 4291
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الدَّرَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ، وَيَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ، إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہو، جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزر جائیں (کہ اس نے وصیت نہ کی ہو)، اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الوصايا/حدیث: 4291]
ترقیم العلمیہ: 4214
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2738، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1627،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1391، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6024، 6025، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3620، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2862، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 974، 2118، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2699، 2702، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4290، 4291، 4292، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4555، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 714، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31576»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4291 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي