سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. باب كيف يكتب الحبس
باب: کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی؟
ترقیم العلمیہ : 4339 ترقیم الرسالہ : -- 4419
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي أَصَبْتُ مَالا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ، وَلا يُوهَبَ، وَلا يُوَرَّثَ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ، وَفِي الأَقْرَبِينَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَفِي الرِّقَابِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِيَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ" ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرْتُهُ لابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا. تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، جو میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، مجاہدین، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الأحباس/حدیث: 4419]
ترقیم العلمیہ: 4339
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627، 3629، 3630، 3631، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
«قال الدارقطني: وهو حديث ص
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4419 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي