الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الشفعة
باب: حق شفعہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4510 ترقیم الرسالہ : -- 4591
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ ، نَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى شَبَهِهِ، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ" ،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ، زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں مقدمہ لے کر آئے۔ سعد نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھ سے عہد لیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کو قتبیہ کے ساتھ مشابہت کر لیں۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے جو میرے والد کے فرش پر اس کی کنیز کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قتبیہ کے ساتھ مشابہت کر لی کہ وہ واضح طور پر قتبیہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کو ملتا ہے اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے۔“ اے سودہ! تم اس لڑکے سے پردہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس بچے نے کبھی نہیں دیکھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4591]
ترقیم العلمیہ: 4510
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2053، 2218، 2421، 2533، 2745، 4303، 6749، 6765، 6817، 7182، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1457، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1349، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4105، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3486، 3487، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5648، 5651، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2273، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2004، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3850، 4590، 4591، 4592، 4593، 4594، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24720، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 240، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17980»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق