سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الأشربة وغيره
مشروبات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 4610 ترقیم الرسالہ : -- 4693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ بَاذَانَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَقَالَ:" اسْقُونِي، فَأُتِيَ بِنَبِيذِ زَبِيبٍ فَشَرِبَ فَقَطَّبَ فَرَدَّهُ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابٌ، فَسَكَتَ فَأَعَادَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَشَرَابُ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ آخِرِهِمْ، قَالَ: رُدُّوهُ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ فَجَعَلَ يَمُصُّهُ، وَيَقُولُ: صَبَّ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى أَمْكَنَ شَرِبَهُ، فَقَالَ: اصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا" .
سیدنا مطلب بن ابووداعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”مجھے کچھ پینے کے لیے دو!“ تو آپ کی خدمت میں کشمش کی نبیذ لائی گئی، آپ نے اسے کچھ پیا اور پھر اسے واپس کر دیا، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا یہ حرام ہے؟ اللہ کی قسم! یہ تو ایک مشروب ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، انہوں نے دوبارہ آپ سے یہ سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ اللہ کی قسم! یہ تو اہل مکہ کا مخصوص مشروب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے واپس میرے پاس لے آؤ!“ پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں پانی ملا دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھونٹ گھونٹ بھر کے پینے لگے۔ آپ یہ ارشاد فرماتے رہے: ”تھوڑا سا پانی اور ڈال دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی ارشاد فرماتے رہے، یہاں تک کہ وہ پینے کے قابل ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ اس طرح کر لیا کرو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الأشربة وغيرها/حدیث: 4693]
ترقیم العلمیہ: 4610
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5709، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5193، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17524، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4692، 4693، 4695، 4696، 4697، 4698، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 32، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 14847»
«قال الدارقطني: والكلبي متروك الحديث، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 192)»
«قال الدارقطني: والكلبي متروك الحديث، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 192)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
باذام الكوفي ← المطلب بن أبي وداعة القرشي