علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك
باب: شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4626 ترقیم الرسالہ : -- 4709
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" آكُلُ مَا طَفَا عَلَى الْمَاءِ؟ قَالَ: إِنَّ طَافِيَهُ مَيْتَةٌ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَاءَهُ طَهُورٌ، وَمِيتَهُ حِلٌّ" .
عبدالرحمن بن ابوہریرہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا میں اس مچھلی کو کھاؤں جو (مرنے کے بعد) پانی پر تیرنے لگتی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پانی میں تیرنے والی مچھلی تو مردار ہوتی ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس کا (سمندر کا) پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“ [سنن الدارقطني/ الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك/حدیث: 4709]
ترقیم العلمیہ: 4626
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4709، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: صحح الدارقطني وقفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 8)»
«قال الدارقطني: صحح الدارقطني وقفه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 8)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 4709 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي هريرة ← عبد الله بن عمر العدوي