سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
5. باب إباحة الصيد بالكلاب والجوارح
باب:کتوں اور شکاری پرندوں کے ساتھ شکار کی اجازت کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4712 ترقیم الرسالہ : -- 4797
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ لِي كِلابًا مُكَلَّبَةً، فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ: إِنْ كَانَتْ لَكَ كِلابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ؟، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ؟، قَالَ: ذَكِيٌّ وَغَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغِيبَ عَنِّي؟، قَالَ: وَإِنْ تَغِيبَ عَنْكَ مَا لَمْ تَضِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ سَهْمَكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا ثُمَّ كُلْ فِيهَا" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کا نام ابوثعلبہ تھا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ تربیت یافتہ کتے ہیں، آپ ان کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں مجھے بتائیں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے کتے تربیت یافتہ ہیں تو جس شکار کو وہ تمہارے لیے روک لیتے ہیں تم اسے کھا لو، خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملے یا ذبح کرنے کا موقع نہ ملے۔“ اس شخص نے دریافت کیا: اگر وہ کتا خود اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ خود اس میں سے کچھ کھا لے (تو بھی تم اسے کھا سکتے ہو)۔“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے میری کمان کے بارے میں بتائیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کمان (یعنی تیر) جس چیز کو روک دیتی ہے اسے تم کھا لو۔“ انہوں نے دریافت کیا: خواہ اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ذبح کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔“ اس شخص نے دریافت کیا: اگر وہ شکار مجھ سے روپوش ہو جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ تم سے روپوش ہو جاتا ہے، تو جب تک وہ گم نہیں ہوتا، جب تک تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں پاتے (تو تم اسے کھا سکتے ہو)۔“ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں بتائیں کہ جب ہم مجبوری کے تحت انہیں استعمال کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں دھو کر پھر ان میں کھا سکتے ہو۔“ [سنن الدارقطني/ الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك/حدیث: 4797]
ترقیم العلمیہ: 4712
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4309، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4789، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2857، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4797، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6840»
«قال ابن حزم: لا يصح لأنه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 240)»
«قال ابن حزم: لا يصح لأنه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 240)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي