سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب
حیض سے متعلقہ احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 781 ترقیم الرسالہ : -- 793
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشُّهُورِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ لِذَلِكَ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْسِلْ وَلْتَتَوَضَّأْ وَلْتَسْتَدْفِرْ ثُمَّ تُصَلِّي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں استحاضہ کا شکار ہوئیں۔ سیدہ ام سلمہ نے ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے مہینوں میں جتنے دن تک اسے حیض آیا کرتا تھا، وہ اس تعداد کو شمار کرے اور اس دوران نماز کو ترک کر دے۔ جب وہ وقت گزر جائے تو وہ غسل کر کے وضو کر لیا کرے اور کپڑا رکھ کر نماز ادا کر لیا کرے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحيض/حدیث: 793]
ترقیم العلمیہ: 781
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 199، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6976، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 208، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 274، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 623، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1604، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 793، 794، 795، 796، 843، 844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27153، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 304، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6894، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 1182، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1355»
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه
«قال البیھقی: هذا حديث مشهور أودعه مالك في الموطأ إلا أن سليمان لم يسمعه من أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سليمان بن يسار الهلالي ← أم سلمة زوج النبي