سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب الأمر بتعليم الصلوات والضرب عليها وحد العورة التى يجب سترها
باب: نماز کی تعلیم دینے کا حکم اس (کو چھوڑنے کی وجہ سے) مارنے کا حکم اور ستر کا حکم جس کا چھپانا لازم ہے
ترقیم العلمیہ : 876 ترقیم الرسالہ : -- 888
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الشَّيْلَمَانِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، نا سَوَّارُ أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلاةِ فِي سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا فِي عَشْرٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ، وَإِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلا يَرَيْنَ مَا بَيْنَ رُكْبَتِهِ وَسُرَّتِهِ، فَإِنَّمَا بَيْنَ سُرَّتِهِ وَرُكْبَتِهِ مِنْ عَوْرَتِهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سات سال تک کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں ان کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کر دو۔ جب کوئی شخص اپنے غلام یا ملازم کی شادی کر دے تو وہ گھٹنے اور ناف کے درمیان والے حصے کی طرف نہ دیکھے کیونکہ اس کا ناف اور گھٹنے کا درمیانی حصہ ستر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 888]
ترقیم العلمیہ: 876
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 719، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 495، 4113، 4114، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3269، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 887، 888، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6803، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3501»
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي