سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
10. باب ذكر بيان المواقيت واختلاف الروايات فى ذلك
باب: نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 980M ترقیم الرسالہ : -- 993
ح وحدثني أبي ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ؟ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعَصْرَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ كَثَرَبِ الْبَقَرَةِ صَلاهَا" .وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو موخر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گائے کے منہ مارنے کی طرح سے ادا کرتا ہے۔“ اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عصر کی نماز کو جلدی پڑھنے کی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 993]
ترقیم العلمیہ: 980M
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 993، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
عطاء بن صهيب الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري