🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فى وجوب معرفة الله تعالى وتوحيده والاعتراف بوجوده
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عِدْلًا، بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ) )
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو کچھ اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کر دیا ہے، صرف (وہ ہوتا ہے) جو یکتا و یگانہ اللہ چاہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1839»
وضاحت: فوائد: … بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی احادیث میں اس بات کی مزید وضاحت کر دی تھی کہ کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت کار فرما ہے، تمام مخلوقات کی مشیت اور اختیار اسی ایک کی مشیت کے تابع ہے اور اس سے منع کر دیا تھا کہ کوئی کسی کی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے برابر سمجھے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔
کائنات وسیع و عریض انتظام و انصرام پر مشتمل ہے، اس کی وسعت انسانی عقلوں سے ما ورا ہے۔ اس کائنات کے پورے نظم و نسق میں اللہ تعالیٰ کی منشا و مرضی کارفرما ہے۔ خوشحالی کا معاملہ ہو یا بدحالی کا، عنایت ِ رزق کا معاملہ ہو یا تنگی ٔ رزق کا، فتح کا معاملہ ہو یا شکست کا، کامیابی کا معاملہ ہو یا ناکامی کا، حیات کا معاملہ ہو یا موت کا، بچپنے میں فوت ہو جانے کا معاملہ ہو یا ادھیڑ عمر تک زندہ رہنے کا، خوبصورتی کا معاملہ ہو یا بدصورتی کا، طلوعِ آفتاب کا معاملہ ہو یا کسوفِ شمس کا، جنت کا معاملہ ہو یا جہنم کا، غرضیکہ کائنات کے تمام معاملات کو سر انجام دینے میں اسی ایک اللہ کا حکم چلتا ہے، اسی کی سنی جاتی ہے۔ اگر سید الاولین والا ٓخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منشا اللہ تعالیٰ کی چاہت کے تابع ہے تو اور کون ہے کسی مائی کا لال، جو اُس کی چاہت کے سامنے اپنی مرضی کا لوہا منوا سکے۔ ہمارے ہاں بھی بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ جب اپنے محسنوں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ اور اُن کا لفظ اور کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، مثلا: ہم پر اللہ تعالیٰ اور آپ کا بڑا احسان ہے، اگر اللہ تعالیٰ اور آپ نہ ہوتے تو معلوم نہیں کہ ہم کون سے حالات سے گزر رہے ہوتے، جیسے اللہ تعالیٰ اور آپ کی مرضی ہو گی۔
ہمیں اپنے جملوں کی تصحیح کرنی چاہیے اور کسی کے احسانات کا تذکرہ کرتے وقت محسِنِ عظیم اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 10 in Urdu