الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى القصاصين
قصہ گوہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 10424
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے قصہ گوئی نہیں کرتا، مگر امیریا مامور یا متکبر، ایک روایت میں ہے: وعظ نہیں کرتا مگر امیریا مامور یا تکلف کرنے والا۔ اس جگہ قصہ گوئی سے مراد وعظ و نصیحت کرنا ہے۔ اسی لیے وعظ و نصیحت کرنے والے کو قاصٌ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية/حدیث: 10424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24494»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مذہب، حکومت کی ذمہ داری ہے، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں دیکھا گیا، ان زمانوں میں خطیب، امام، مفتی، قاضی اور والی کا تقرر یا اس کی معزولی حاکم وقت کی طرف سے ہوتی تھی۔ جہاں حکومت یہ ذمہ داری ادا نہیں کرے گی، وہاں متعصب فرقہ وارانہ ماحول ہو گا اور اسلام کے محاسن منظرِ عام پر نہیں آسکیں گے۔
تکبر اور تکلف کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو امیر کے حکم کے بغیر تقاریر شروع کر دیتاہے، اس کا مقصد ریاکارییا تکبر یا ریاست کا حصول ہوتا ہے، اگر اس کا مقصد اسلام کی تبلیغ ہو تو وہ حاکم سے اجازت لے۔
تکبر اور تکلف کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو امیر کے حکم کے بغیر تقاریر شروع کر دیتاہے، اس کا مقصد ریاکارییا تکبر یا ریاست کا حصول ہوتا ہے، اگر اس کا مقصد اسلام کی تبلیغ ہو تو وہ حاکم سے اجازت لے۔
الحكم على الحديث: صحیح