الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى غزوة بني المصطلق أو المريسيع
غزوۂ بنی مصطلق یا غزوۂ مریسیع کا بیان
حدیث نمبر: 10752
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَقِيلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ أَقَلَّ مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ
سیدنا جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، لوگوں کا خیال ہے کہ یہ غزوہ بنی مصطلق تھا، اسی دوران ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری کی دُبُر پر ہاتھ مار دیا تو انصاری نے دہائی دیتے ہوئے کہا: انصاریو! ذرا ادھر آنا اور مہاجر نے بھی مہاجرین کو اپنی مدد کے لیے پکارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کییہ باتیں سنیں تو فرمایا: یہ جاہلیت والی پکاریں کس لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نے ایک انصاری کی دبرپر ہاتھ مار دیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں کو دفع کرو، یہ بدبودار یعنی فتنہ انگیز اور شر انگیز باتیں ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:مہاجرین جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے بہت تھوڑی تھی، بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ جب مہاجرین اور انصاریوں والی بات رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تک پہنچی تو وہ کہنے لگا: کیا مہاجرین اب اس حد تک آگے نکل گئے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم معزز لوگ ان ذلیلوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتار دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑو، لوگ یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة/حدیث: 10752]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4905، 4907، ومسلم: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15293»
الحكم على الحديث: صحیح