الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب اهتمام النبى بهذه الغزوة وما أنفقه عثمان بن عفان رضى الله عنه
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ تبوک کے لیے خصوصی اہتمام اور اس کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عطیہ کا بیان
حدیث نمبر: 10930
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ قَالَ فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ يُرَدِّدُهَا مِرَارًا
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش العسرۃیعنی غزوۂ تبوک کی مدد کے لیے صحابہ کرام سے اپیل کی تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار ایک کپڑے میں ڈال کر لائے اور ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھولی میں ڈھیر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں میں ان دیناروں کو الٹتے پلٹتے اور فرماتے: آج کے بعد عثمان جو کام بھی کرے، اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بار بار دہرایا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة/حدیث: 10930]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20906»
وضاحت: فوائد: … ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے اور ایک ہزار دینار تھے
الحكم على الحديث: صحیح