الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. صفه يأجوج ومأجوج
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے¤یاجوج ماجوج کے حلیے کا بیان
حدیث نمبر: 13024
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرَنَّ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى النَّاسِ) حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَِّهُ وَيَسْتَثْنِي فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَنْشِفُونَ الْمِيَاهَ وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا امیر کہتا ہے: واپس چلو، کل تم اسے کھود لو گے، لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو وہ دیوارپہلے سے بھی زیادہ سخت ہوچکی ہوتی ہے، (ہر روز یہی کچھ ہوتا ہے) حتی کہ جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر لے گا کہ وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں، تو اسی طرح کھودنا شروع کریں گے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوگا تو اس بار ان کا امیر ان سے کہے گا: واپس چلو، اگر اللہ نے چاہا تو باقی کل کھود لیں گے، اس دفعہ وہ ان شاء اللہ کہے گا، دوسرے دن جب وہ وہاں آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے، جس میں چھوڑ کر گئے ہیں، چنانچہ وہ اسے کھود لیں گے اور لوگوں کی طرف نکل جائیں گے، وہ سارے پانیوں کو چوس جائیں گے اور لوگ ان سے ڈر کر اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے،(زمین پر قبضہ جما لینے کے بعد) یاجوج ماجوج آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ دیکھ کروہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی اور آسمان والوں پر بھی غالب آگئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کے گوشت اور خون کھا کھا کر زمین کے جانور خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔ [الفتح الربانی/ظهور يأجوج ومأجوج من علامات الساعة الكبرى/حدیث: 13024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3153،و ابن ماجه: 4080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10632 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کے قصے میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کی ہے: {فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَ مَااسْتَطَاعُوْالَہٗ نَقْبًا} (سورۂ کہف: ۹۷) … پس نہ تو ان (یاجوج ماجوج) میں اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
الحكم على الحديث: صحیح